| <div style="font-family:'Jameel Noori Nastaleeq';font-size:22px; font-style:normal;font-variant:normal;font-weight: normal; letter-spacing: normal; line-height: 29px;"> |
کانگو وائرس کی علامات اور احتیاط
پاکستان میں 2002 ء میں کانگووائرس کی وجہ سے سات افراد لقمہ اجل بنے تھے ۔ پچھلے سال 2015 بلوچستان میں کانگو وائرس کے 56 کیسز رپورٹ ہوئے۔ جن میں 18خواتین بھی شامل تھیں۔ اس خطرناک وائرس سے 13 مریضوں نے دم توڑ دیا۔
اس وائرس کی 4اقسام ہیں : 1۔ ڈینگی وائرس ․․․․ 2۔ ایبولا وائرس ․․․․․3۔ لیساوائرس ․․․․․4 ریفٹی ویلی وائرس ۔
اگر کسی کا کانگووائرس لگ جائے تواس سے انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ یہ وائرس زیادہ ترافریقی اور جنوبی امریکہ، مشرقی یورپ ایشیاء اور مشرقی وسطی میں پایاجاتا ہے۔
کچھ علامات قابلِ ذکرہیں ․․․․ کانگو وائرس کامریض تیز بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اسے سردرد متلی، فے، بھوک میں کمی ، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے اور آنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔ تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے۔ جسے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
مذبح میں جانوروں کے طبعی معائنہ کیلئے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کا ہونا ضروری ہے جو ایسے جانوروں کی نشاندہی کرسکیں۔

Post a Comment